خلافتِ راشدہ کے دور کا ایک بے مثال اور دل کو چھو لینے والا واقعہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ راتوں کو بھیس بدل کر مدینہ منورہ کی گلیوں میں گشت فرمایا کرتے تھے تاکہ کسی حاجت مند کو تکلیف نہ ہو۔
ایک رات آپ نے مدینہ کے مضافات میں ایک خیمے سے بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ جب آپ قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک خاتون چولہے پر ہنڈیا چڑھا رکھی ہے اور بچے اس کے گرد بیٹھ کر رو رہے ہیں۔
حضرت عمر نے سلام کیا اور دریافت کیا کہ یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟ خاتون نے کہا کہ کئی دنوں سے ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں، بچوں کو تسلی دینے کے لیے میں نے ہنڈیا میں پانی اور کنکریاں ڈال رکھی ہیں تاکہ وہ سمجھیں کہ کھانا پک رہا ہے اور سو جائیں۔
امیر المؤمنین یہ سن کر آبدیدہ ہو گئے اور فوری طور پر بیت المال پہنچے، آٹے اور گھی کی بوری اپنی پشت پر اٹھائی اور خود ان مساکین کے لیے کھانا تیار کروایا۔