یہ سن 1998 کی بات ہے جب پنجاب کے ایک قدیم قصبے میں صدیوں پرانی ایک مخدوش حویلی واقع تھی۔ آس پاس کے تمام دیہاتی شام کے بعد اس حویلی کے قریب سے گزرنے سے بھی گریز کرتے تھے کیونکہ وہاں سے عجیب و غریب سرگوشیوں اور پازیب کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔
چار یونیورسٹی کے دوستوں نے تحقیق کرنے کی غرض سے اس حویلی میں ایک رات گزارنے کا چیلنج قبول کیا۔ رات گیارہ بجے جب انہوں نے حویلی کے صدر دروازے سے اندر قدم رکھا تو اندر شدید سردی کا احساس ہوا، حالانکہ باہر جون کا مہینہ تھا۔
اوپری منزل کے آخری کمرے کا دروازہ خود بخود چڑچڑاہٹ کے ساتھ کھلا اور اندر سے ایک زرد بتی جلتی ہوئی دکھائی دی۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوئے تو سامنے ایک پرانا آئینہ تھا جس میں ان کا عکس نظر آنے کے بجائے ایک اندھیری وادی کی تصویر دکھائی دے رہی تھی…