ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں ایک بڑا طاقتور شیر دوپہر کے وقت درخت کے سائے میں سو رہا تھا۔ قریب ہی ایک ننھا چوہا اپنے بل سے نکلا اور کھیل کود کرتے ہوئے غلطی سے شیر کے جسم پر دوڑنے لگا۔ شیر کی آنکھ کھل گئی اور اس نے غصے سے اپنے بھاری پنجے میں ننھے چوہے کو دبوچ لیا۔
چوہا خوف سے کانپنے لگا اور رو کر بولا: “اے جنگل کے بادشاہ! مجھے معاف فرما دیجیے، میں نے جان بوجھ کر گستاخی نہیں کی۔ اگر آپ مجھے چھوڑ دیں گے تو شاید کسی دن میں بھی آپ کے کام آ سکوں۔”
شیر کو چوہے کی بات سن کر ہنسی آ گئی کہ اتنا چھوٹا جانور اس کی کیا مدد کرے گا، لیکن اس نے رحم کھا کر چوہے کو آزاد کر دیا۔
کچھ دنوں بعد شکاریوں نے جنگل میں مضبوط جال بچھایا اور شیر اس جال میں بری طرح پھنس گیا۔ شیر نے دھاڑنا شروع کیا تو ننھے چوہے نے اس کی آواز پہچان لی۔ چوہا فوراً دوڑتا ہوا آیا اور اپنے تیز دانتوں سے جال کی رسیاں کاٹ دیں، اور شیر آزاد ہو گیا۔