بہت پرانی بات ہے، علی اور بلال نامی دو گہرے دوست ایک خوبصورت گاؤں میں رہتے تھے۔ دونوں سکول بھی ساتھ جاتے اور شام کو کھیل کے میدان میں بھی ایک ساتھ نظر آتے۔ ایک دن انہوں نے ساتھ والے قصبے جانے کا فیصلہ کیا، جس کا راستہ ایک گھنے جنگل سے گزرتا تھا۔
چلتے چلتے اچانک جھاڑیوں میں سے ایک خوفناک ریچھ ان کی طرف بڑھتا دکھائی دیا۔ علی فوری طور پر اپنی جان بچانے کے لیے ایک اونچے درخت پر چڑھ گیا اور بلال کو نیچے ہی چھوڑ دیا۔ بلال درخت پر چڑھنا نہیں جانتا تھا، مگر اس نے سن رکھا تھا کہ ریچھ مردہ جانوروں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔
بلال فوراً زمین پر لیٹ گیا اور اپنا سانس روک لیا۔ ریچھ اس کے قریب آیا، اس کے کانوں اور چہرے کو سونگھا اور اسے مردہ سمجھ کر چپ چاپ جنگل کی طرف واپس چلا گیا۔
جب خطرہ ٹل گیا تو علی درخت سے نیچے اترا اور ہنستے ہوئے بولا: “بلال! ریچھ تمہارے کان میں کیا کہہ رہا تھا؟”
بلال نے مسکرا کر سنجیدگی سے جواب دیا: “ریچھ کہہ رہا تھا کہ ایسے مطلبی دوستوں سے ہوشیار رہنا جو مصیبت کے وقت اکیلا چھوڑ کر اپنی جان بچانے لگیں۔”